Germany to Deport Asylum Seekers Under Dublin Rules

جرمنی: ڈبلن قوانین کے تحت ریکارڈ تعداد میں ملک بدریاں

جرمنی میں پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی سب سے زیادہ تعداد اٹلی بھیجی گئی۔ یورپی یونین کے ڈبلن ضوابط کے تحت پناہ کے متلاشی افراد انہیں ممالک میں درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں، جہاں سے وہ یونین کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔جرمن اخبار ’زوڈ ڈوئچے زائٹنگ‘ نے وفاقی وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ سن 2018 میں یورپی یونین کے ’ڈبلن ضوابط‘ کے تحت جرمنی سے سیاسی پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کو ریکارڈ تعداد میں ملک بدر کر کے یونین کے دیگر رکن ممالک بھیجا گیا۔ وفاقی وزارت داخلہ نے یہ رپورٹ بائیں بازو کی سیاسی جماعت ’دی لنکے‘ کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں جاری کی تھی۔

’ملک بدریوں میں اضافہ‘

اس رپورٹ کے مطابق جرمنی سے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی ان کے آبائی وطنوں کی جانب ملک بدریوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔گزشتہ برس کے اوائل سے لے کر نومبر کے مہینے کے آخر تک جرمن حکام نے 8658 تارکین وطن کو ملک بدر کیا تھا جب کہ اس سے گزشتہ برس یعنی سن 2017 میں مجموعی طور پر سات ہزار ایک سو تارکین وطن کو ملک بدر کیا گیا تھا۔

’ڈبلن ضوابط کے تحت ملک بدریاں‘

یورپی یونین کے ’ڈبلن ضوابط‘ کے تحت سیاسی پناہ کے متلاشی افراد اپنی درخواستیں یونین کی اسی رکن ریاست میں جمع کرا سکتے ہیں جن کے ذریعے وہ سب سے پہلے یونین کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق حکام نے گزشتہ برس کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران ڈبلن ضوابط کے تحت قریب باون ہزار تارکین وطن کو ملک بدر کر کے یونین کے دیگر رکن ممالک بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ یونین کے رکن ممالک نے ان میں سے پینتیس ہزار سے زائد درخواستیں قبول کیں۔  جرمنی سے دیگر ممالک کی جانب ملک بدری کے حوالے سے قریب ایک تہائی زیادہ تارکین وطن کی منزل اٹلی رہا۔ دوسری جانب ہنگری نے کسی ایک بھی تارک وطن کو ڈبلن ضوابط کے تحت اپنے ہاں آنے کی اجازت نہیں دی۔          وزارت داخلہ کے مطابق یونان نے صرف بیس فیصد تارکین وطن کو جرمنی سے واپس اپنے ہاں آنے کی اجازت دی۔     ہورسٹ زیہوفر کے وزیر داخلہ بننے کے بعد سے جرمنی کی وفاقی حکومت نے پناہ کے مسترد درخواست گزاروں کی جرمنی بدری کے لیے کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔

جرمنی: سات ہزار سے زائد پاکستانیوں کی ملک بدری طے

باڈن ورٹمبرگ

وفاقی جرمن ریاست باڈن ورٹمبرگ سے سن 2017 کے اختتام تک ساڑھے پچیس ہزار غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جانا تھا۔ ان میں 1803 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

باویریا

جرمن صوبے باویریا میں ایسے غیر ملکی شہریوں کی تعداد تئیس ہزار سات سو بنتی ہے، جنہیں جرمنی سے ملک بدر کیا جانا ہے۔ ان میں 1280 پاکستانی بھی شامل ہیں، جو مجموعی تعداد کا 5.4 فیصد ہیں۔

برلن

وفاقی جرمن دارالحکومت کو شہری ریاست کی حیثیت بھی حاصل ہے۔ برلن سے قریب سترہ ہزار افراد کو لازماﹰ ملک بدر کیا جانا ہے جن میں تین سو سے زائد پاکستانی شہری شامل ہیں۔

برانڈنبرگ

اس جرمن صوبے میں ایسے غیرملکیوں کی تعداد قریب سات ہزار بنتی ہے، جنہیں لازمی طور پر ملک بدر کیا جانا ہے۔ ان میں سے سات فیصد (471) کا تعلق پاکستان سے ہے۔

ہیسے

وفاقی صوبے ہیسے سے بھی قریب گیارہ ہزار غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جانا ہے جن میں سے 1178 کا تعلق پاکستان سے ہے۔

نارتھ رائن ویسٹ فیلیا

جرمنی میں سب سے زیادہ آبادی والے اس صوبے سے بھی 71 ہزار غیر ملکیوں کو لازمی طور پر ملک بدر کیا جانا ہے۔ ان میں افغان شہریوں کی تعداد ڈھائی ہزار سے زائد ہے۔ پاکستانی شہری اس حوالے سے پہلے پانچ ممالک میں شامل نہیں، لیکن ان کی تعداد بھی ایک ہزار سے زائد بنتی ہے۔

رائن لینڈ پلاٹینیٹ

رائن لینڈ پلاٹینیٹ سے ساڑھے آٹھ ہزار غیر ملکی اس فہرست میں شامل ہیں جن میں پانچ سو سے زائد پاکستانی شہری ہیں۔

سیکسنی

جرمن صوبے سیکسنی میں ساڑھے گیارہ ہزار غیر ملکی ایسے ہیں، جن کی ملک بدری طے ہے۔ ان میں سے 954 پاکستانی شہری ہیں۔

دیگر صوبے

مجموعی طور پر سات ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کی ملک بدری طے ہے۔ دیگر آٹھ جرمن وفاقی ریاستوں میں پاکستانیوں کی تعداد پہلے پانچ ممالک کی فہرست میں شامل نہیں، اس لیے ان کی حتمی تعداد کا تعین ممکن نہیں۔

You may also like...

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *